Azmat Hayat
کافی دنوں بعد آج پھر کچھ وقت اپنے ان دوستوں کے لئے نکال پایا ہوں جن سے میرا رشتہ اس بلاگ کے توسط سے ہے۔ حقیقتا میں انتہائی شرمندہ ہوں کہ اپنی  مصروفیات میں اس بلاگ کے لئے وقت نہ نکال سکا ۔ وجوہات گنوانے پہ آؤں تو شاید ڈھیروں بن جائیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ غمِ پیٹ نے کہیں کا نہ چھوڑا ۔ میں آج جب لکھنے کا سوچ رہا تھا تو ذہن میں یہی تھا کہ ایک معذرتی بلاگ لکھوں گا اور اپنے ان تمام دوستوں کے گلے شکوے دھونے کی کوشش کروں گا جو وقتا فوقتا میرے بلاگ کو دیکھتے اور پھر نئی تحریر کے موجود نہ ہونے کے سبب قدرے مایوسی سے بلاگ بند کر دیتے لیکن اوپر کی سطور لکھتے وقت ایک چھوٹا سا واقعہ ذہن کے پردے پہ ابھرا تو سوچا اسے ہی بلاگ کی زینت بنا دوں ۔ درحقیقت اس بلاگ کے زریعے میں اپنے وہ احساسات آپ دوستوں تک منتقل کرتا ہوں جو زندگی کی اس بھاگم بھاگ میں پردہ دل پہ نقش ہو جاتے ہیں۔
میں ان دنوں ایک بریڈ کمپنی کے لئے بطور سیلزمین کام کر رہا ہوں اورمیرے ساتھ ایک اوربندہ بطورڈرائیوراپنے فرائض سر  انجام دیتا ہے۔ کچھ روز پہلے کی بات ہے کہ مارکیٹ سے واپسی رات گئے ہوئی۔ ابھی ہم نے تین حصے واپسی کا سفر ہی مکمل کیا ہو گا کہ گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا ۔ہم جس روڈ پر تھے وہاں ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی اور دوسرا رات کے اس وقت کوئی بھی انجان بندوں کو اپنے ساتھ لفٹ دینے کا رسک نہیں لے سکتا تھاچنانچہ ہم دونوں نے یہی فیصلہ کیا کہ جہاں تک ہمت ساتھ ہے یا پٹرول پمپ نہیں آ جاتا وہاں تک گاڑی کو دھکا لگاتے ہیں ۔ یہ کام کچھ زیادہ آسان نہیں تھا کیوں کہ بہت سی جگہوں پر سڑک اونچائی کی طرف تھی ایسی صورت میں گاڑی کو دو بندوں کا دھکیلناکافی مشقت طلب کام تھا لیکن مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق جب اور کوئی حل نہ سوجھا تو دھکا لگانا شروع کر دیا۔ اس دوران کئی گاڑیاں ہمارے پاس سے بھی گزریں لیکن کسی نے بھی مدد کرنے کی کوشش نہ کی ۔ دل کی شدید خواہش تھی کہ کوئی مہربان گاڑی والا ہماری گاڑی کو ٹوچین کر لیتا اور قریبی کسی پٹرول پمپ تک چھوڑ دیتا لیکن پندرہ منٹ تک دھکا لگانے کے باوجود نہ  ہی کوئی پٹرول پمپ نظر آیا اور نہ ہی کسی نے ہماری مدد کرنے کے بارے میں کوئی پیش رفت دکھائی۔ ایک توویسے ہی پورے دن کے تھکے ہارے تھے دوسرا اس دھکا بازی نے ہم دونوں کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس سے پہلے کہ حوصلہ جواب دیتا ایک موٹرسائیکل سوار ہمارے پاس سے گزرا اور قدرے آگے جا کر رک گیا پھر اس نے اپنا موٹرسائیکل واپس موڑا اور ہماری طرف آنے لگا۔ قریب پہنچ کے اس نے وجہ دریافت کی تواسے بتایا کہ پٹرول ختم ہو گیا ہے ۔ اس نے ہمیں گاڑی میں بیٹھنے کو کہا خود گاڑی کی پچھلی طرف گیا اور اپنی ایک ٹانگ  گاڑی کے پائیدان پہ رکھی اور اپنی موٹرسائکل کے ذریعے ہماری گاڑی کو دھکا دینا شروع کر دیا۔ اس وقت گاڑی میں بیٹھتے وقت جو سکون اور راحت محسوس ہوئی وہ لفظوں میں بیان کرنی ناممکن ہے۔ اس موٹر سائیکل والے کے لئے دل سے دعا نکلی ۔ ہمارا اور اس کا ساتھ تقریبا بیس منٹ پر مشتمل رہا پھر پٹرول پمپ آ گیا اور یوں ہمارا محسن ہم سے رخصت ہو گیا۔  ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا تو اس نے ایک ایسی بات کہی جس نے ہم دونوں کو بہت متاثر کیا اور وہی بات آپ لوگوں کے گوش گزار کرنے کے لئے اتنی تمہید باندھی۔ وہ کہنے لگا کہ 

شکریہ کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے۔ زندگی کی اس بھیڑ میں اور مادیت کے اس دور میں جہاں گناہ ثواب بھلائی برائی کی تفریق تقریبا ختم ہو چکی ہے وہاں اپنے اندر کے سکون اور گناہوں کے بوجھ تلے دبے دل کے اطمینان کے لئے چھوٹی چھوٹی نیکیاں بہت ضروری ہیں۔ میں اپنے اندر کے بےپناہ شور اور بےاطمینانی سے فرار حاصل کرنے کے لئے ایسی چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرتا ہوں حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں ہر انسان کو اپنے اندر کے بے پناہ دباؤ سے بچنے کے لئے نیکی کا ہی سہارا لینا چاہئے۔ بھلائی اور خیر کے کام ہی ہمارے اندر کی بے سکونی کو کم کر سکتے ہیں ورنہ مادیت سے جڑا آج کا انسان اندر سے اتنا ہی کھوکھلا ہے جتنی کہ ایک دیمک ذدہ لکڑی۔

وہ بظاہر ایک عام سا انسان تھا لیکن خود کو زندہ رکھنے کا جو طریقہ وہ اپنا رہا تھا حقیقتا ہم سب کو اس کی ضرورت ہے۔ خیر بھلائی اور نیکی کے یہ بےضرر کام جن پر نہ تو ہمارا زیادہ وقت صرف ہوتا ہے اور نہ ہی پیسہ ہمارے اندر کے الجھے انسان کو نہ صرف سلجھاتے ہیں بلکہ دل میں ایک خاص نرمی پیدا کرتے ہیں ۔ ہر انسان چاہے وہ جس مذپب سے بھی تعلق رکھتا ہے نیکی اس کے لئے اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ زندہ رہنے کے لئے سانس خصوصا سٹیٹس کے خول میں جکڑے انسانوں کے لئے تو ایسی چھوٹی اور بےضرر نیکیاں اکسیر کا درجہ رکھتی ہیں۔ 
|
0 Responses

ایک تبصرہ شائع کریں

اس گیجٹ میں ایک خامی تھی
بیاض مجنوں 2012. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.