مختصر کہانیاں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مختصر کہانیاں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Unknown
جنگل کا باشاہ شیر حسب دستور دربار لگائے انتہائی طمطراق سے اپنے تخت پہ جلوہ افروز تھا۔ وزیران و مشیران کا ایک جمگھٹا بادشاہ سلامت کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھا۔ جنگل کے عمومی و خصوصی مسائل زیر بحث تھے کہ اچانک داروغہ دربار نے کسی بندر کے آنے کی اطلاع دی۔بادشاہ کے وزراء نے ایک اجتماعی ناگوای سے داروغہ دربار کو دیکھا۔ انہیں شاید اس ناعاقبت اندیش کی یہ ادا بری لگی تھی کہ وہ سب انتہائی اہم معاملات پہ غوروفکر میں مصروف تھے جبکہ داروغہ کو ایک بندر کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ تاہم بادشاہ سلامت کے روبرو کچھ کہنا مناسب نہ سمجھتے ہوئے سارے چپ ہی رہے۔
۔"کون ہے وہ اور کیا چاہتا ہے"۔ شیر  یعنی بادشاہ سلامت نے انتہائی سخت گرجدار آواز میں پوچھا
۔"جناب انتہائی خستہ حال ایک غریب بندر ہے کسی معاملے میں بادشاہ سلامت کی مدد مانگنے آیا ہے"۔ داروغہ نے انتہائی ادب سے گوش گزار کیا
۔"لیکن تمہیں پتا نہیں تھا کہ ہم انتہائی اہم ملکی مشاورت میں مصروف ہیں تم نے اسے رفع دفع کر دینا تھا"۔ باشاہ کا ایک وزیر انتہائی نخوت سے بولا
۔"حضور بالکل معلوم تھا لیکن اس کی کیفیت و حالت دیکھ کر مجھے اس پہ ترس آ گیا اور اسے بے مراد بھیجنا اچھا معلوم نہیں ہوا۔ "۔ داروغہ دربار نے ایک بار پھر ادب سے جواب دیا
۔" ٹھیک ہے اندر بھیجو اسے لیکن اسے سمجھا دینا کہ ہمارا وقت کتنا قیمتی ہے (اور وہ کتنا بے قیمت ہے) بات مختصر اور جامع کرے تا کہ زیادہ وقت ضائع نہ ہو"۔ بادشاہ سلامت نے گویا احسان عظیم کیا۔ داروغہ ادب سے سلام کہتا باہر نکل گیا اس کے جانے کے تھوڑی ہی دیر بعد ایک بندر انتہائی خستہ حالت، بکھرےبال اور پریشان چہرے کے ساتھ دربار عالی میں حاضر ہو۔ اس کے چہرے اور لباس و حالت کو دیکھ کر تمام درباریوں کے چہروں پہ پڑا ناگواری کا احساس اور شدید ہو گیا۔ بادشاہ جو نووارد کو غور سے دیکھ رہا تھا انتہائی رعب و دبدبے سے گویا ہوا
۔" کہو کیا کہنا ہے اور یاد رکھو بات جامع اور مختصر ہو"۔
۔" حضور۔۔ میرا بھرا پرا خاندان ہے۔ اور ہم سب ایک ہی جگہ ایک ہی چھت تھلے انتہائی خوشی و راحت سے زندگی بسر کر رہے تھے ۔ سبھی خوش و خرم تھے اور دکھ سکھ میں ایک دوسرے کی بھرپور مدد بھی کیا کرتے تھے ۔پھر اچانک یوں ہوا کہ ہمارے گھر کا سکون آہستہ آہستہ جانے لگا ایک عجیب سی سرد مہری دلوں میں آگئی۔ہمارے درمیاں بظاہر کوئی دشمنی نہیں ہے کوئی اختلاف نہیں ہے پھر بھی دل ایک دوسرے سے بیزار ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بڑی کوشش کی کہ اس منفی پہلو کی وجہ کا پتا لگایا جا سکے لیکن ہم سب ناکام رہے آخر مجبورا میں حضور کی خدمت اقدس میں یہ درخواست لے کر حاضر ہوا ہوں کہ آپ اپنی طاقت و عقلمندی اور دور اندیشی سے اس معاملہ کا کوئی حل نکالیں تا کہ ہمارے گھر کا سکون دوبارہ بحال ہو سکے"۔ بندر کا دکھ اس کے لہجے سےعیاں تھا۔ اپنی تکلیف بادشاہ سلامت کے حضور گوش گزار کرنے کے بعد وہ نہایت امید  بھری نظروں سے بادشاہ سلامت کی طرف دیکھنے لگا۔بادشاہ سلامت کچھ دیر تو معاملے کو سمجھنے کی سعی لاحاصل میں مصروف رہے اور جب کوئی بات پلے نہ پڑی تو اس معاملے کو وزیر باتدبیر کے سپرد کرنے کا سوچا۔
۔"وزیر محترم "۔
۔" جی حضور"۔ وزیر اعظم دست بدستہ کھڑے ہو گئے۔
۔" آپ ایسا کریں ایک کمیشن بنائیں جو معاملے کے تمام پہلوؤں کی مکمل چھان بین کرے اور پھر ایک تفصیلی رپورٹ آپ کے گوش گزار کرے تا کہ اس غریب بندر کے مسئلے کا مناسب حل نکالا جا سکے"۔
۔" بہت اچھا اور عمدہ خیال ہے حضور کا اس سے نہ صرف پورا مسئلہ سامنے آ جائے گا بلکہ اس کے تکمیلی حل کے لئے مناسب اقدامات کرنے میں بھی آسانی رہے گی"۔ خوشامدی ٹولے نے اپنے کام کا آغاز کیا
 باشاہ سلامت کے حکم کے مطابق ایک کمیشن کی تشکیل کا عمل شروع ہو گیا۔وزیر باتدبیر نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے چچیرے بھائی کے بیٹے کو اس  کمیشن کا سربراہ مقرر کیا اب باری تھی ممبران کی تشکیل کی تو یہ معاملہ کچھ یوں ترتیب پایا کہ اہل دربار میں سے جو حضرات صاحب حیثیت تھے اور وزیر با تدبیر کی خوب خاطر تواضع کی اہلیت رکھتے تھے ان کے مشورہ خاص سے ممبران کا چناؤ کیا گیا اور یوں پندرہ ممبران پہ مشتمل کمیشن کی تشکیل کا یہ پہلا مرحلہ بخیر و خوبی طے پا گیا۔
اگلے دن پندرہ ممبران پہ مشتمل یہ کمیشن متاثرہ بندر کے گھر تحقیق و تفتیش کے لئے پہنچ گیا۔ بندروں کے خاندان نے ان کی خوب خاطر طواضع کی کہ وہ انہیں اپنا مسیحا سمجھ رہے تھے۔ حتیُ المقدور فیض یاب ہونے کے بعد کمیشن نے ایک لمبا سلسلہ سوالات و جوابات شروع کیا اور کافی دیر کی بحث و تمحیص کے بعد وہاں سے بغیر کسی انجام تک پہنچے روانہ ہو گیا۔ یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہا لیکن حل تھا کہ ندارد۔ جب بندروں نے یہ دیکھا تو مایوسی کے ساتھ ساتھ ان کی الجھن بھی بڑھنے لگی۔ حتیٰ کہ بات تلخ کلامی تک آ پہنچی۔ جب بوڑھے بندر نے یہ حالت دیکھی کہ کمیشن کے آنے سے بجائے پہلے مسئلے کے حل کے مذید مسئلوں نے جنم لینا شروع کر دیا تو وہ ایک بار پھر بادشاہ سلامت کے دربار میں حاضر خدمت ہوا۔
۔" تمہارے مسئلے کا کیا ہوا "۔ بادشاہ نے جب بندر کو سرجھکائے اپنے سامنے دیکھا تو رعب سےگویا ہوا
۔" حضور کا اقبال بلند رہے لیکن حضور میرا مسئلہ بجائے سلجھنے کے مذید الجھ گیا ہے"۔ بوڑھے بندر نے ڈرتے ڈرتے عرض کی اور پھر بادشاہ سلامت کو متوجہ پا کر سارا ماجرہ گوش گزار کر دیا
۔" وزیر با تدبیر یہ بندر کیا کہ رہا ہے۔ اس کا مسئلہ ابھی تک کیوں حل نہیں ہوا"۔ بادشاہ نے اپنے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے توجیہ مانگی
۔" حضور ہم نے سلظنت کے قابل ترین جانوروں کا انتخاب کیا تھا لیکن لگتاہے بندر کا مسئلہ زیادہ گھمبیر اور توجہ طلب ہے"۔ وزیر نے ادب سے عرض کی جس پہ بادشاہ سلامت نے ایک لمبی سی "ہوں" بھری اور کچھ دیر متفکر نظروں سے بندر کو گھورنے  کے بعد یکدم اپنے تخت سے کھڑے ہو گئے۔
۔" ہمیں اپنے وزیر با تدبیر کی بات سے مکمل اتفاق ہے اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب کی بار دو نئے کمیشن بنائے جائیں ایک کمیشن پہلے کمیشن کے ساتھ ملکر مسئلے کی نوعیت اور اس کا حل نکالے گا اور دوسرا کمیشن ان دونوں کمیشن کی کارکردگی پہ نظر رکھے گا"۔ چاروں طرف سے بادشاہ کی دانائی و عقلمندی کے نعرے بلند ہوئے جب کہ بوڑھے بندر کے چہرے پہ چھائے تفکر کے سائے مذید گہرے ہو گئے۔
ایک بار پھر وہی صبح شام کا چکر اور وہی بندروں کی عرق ریزی سے کی گئی خاطرتواضع اور وہی بغیر کسی انجام کے کام۔ بندروں نے اچھے دنوں میں جو جوڑرکھا تھا وہ سب کمیشنوں کی خاطر تواضع میں خرچ ہو گیا یہاں تک کہ جب نوبت خود کے فاقوں اور کمیشن کے نا ختم ہونے والے تقاضوں تک جا پہنچی تو اس بوڑھے بندر کو ایک دفعہ پھر بادشاہ سلامت کے حضور حاضر ہونا پڑا
۔" حضور کا اقبال بلند رہے۔ حضورعالی مقام میری قوم اب فاقہ کشی کا شکار ہونا شروع ہو گئی ہے اور حضور کے بنائے گئے کمیشن تاحال کسی بھی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں"۔ بندر نے کانپتے لہجے کے ساتھ اپنا معاملہ بادشاہ سلامت کے گوش گزار کیا
۔" تم ہوش میں تو ہو  پتاہے کیا کہ رہے ہو اور کس کے سامنے کہ رہے ہو"۔ وزیر نے بادشاہ کے بولنے سے پہلے ہی بوڑھے بندر کی بات اچک لی۔ "حضور مجھےتو یہ بوڑھا بندر انتہائی مکار اور چالاک لگتاہے ۔اس نے ہمیں صرف الجھانے اور مملکت کے امور سرانجام دینے سے روکنے کے لئے یہ چال چلی ہے ۔ مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کا کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں" ۔ بوڑھا بندر یہ کایا پلٹ دیکھ کر حیران رہ گیا اس سے پہلے کہ وہ اپنے تحفظ میں کچھ کہتا کہ بادشاہ سلامت کی گرجدار آواز سنائی دی
۔"اس بوڑھے بندر کو گرفتار کر لو اور ایک تحقیقاتی کمیشن بٹھاؤ ۔ اگر وزیر با تدبیر کی بات سچ ثابت ہوئی تو اسے سر عام پھانسی دی جائے گی"۔چنانچہ ایک اور کمیشن ترتیب دیا گیا جس نےاس بات کی تحقیق کرنا تھی کہ آیا بندر کو حقیقتا مسئلہ درپیش تھا کہ نہیں۔ لیکن یہاں ایک اور مسئلے نے وجود لیا کسی کو بھی اب یہ یاد ہی نہیں تھا کہ اصل مسئلہ کیا تھا اور کہاں سے شروع ہوا۔ چنانچہ نیا وجود پانے والے کمیشن نے قید خانے کا رخ کیا جہاں بوڑھا بندر قید تھا۔ جب معاملہ بوڑھے بندر کے سامنے آیا تو اس نے یکلخت مکمل چپ سادھ لی بہت کوشش کی گئی کہ وہ کچھ بولے لیکن بندر ہنوز خاموش رہا ۔ آخر اسے قصور وار گردانتے ہوئے اسے سرعام پھانسی پہ لٹکا دیا گیا۔
اس بوڑھے بندر کی قوم کے سارے بندر اس دن سے خاموش ہیں۔کمیشن پہ کمیشن بنتے جارہے ہیں اور بندر سرعام پھانسی چڑھتے جا رہے ہیں لیکن کوئی کچھ بولنے کو تیار ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔ نجانے کیوں؟۔
Unknown


۔"آج پتا ہے کیا ہوا"۔ میں جو ابھی ابھی کام سے گھر لوٹا تھا اپنی بیوی کی سرگوشی بھری آواز سن کر چونک گیا
۔"لگتا ہے کوئی خاص بات ہے "۔ 
۔" ہاں نا"۔ وہ اب میرے قریب آ کے بیٹھ گئی اور میں جو جوتے اتارنے کے بعد واش روم کا رخ کرنے والا تھا اس کا یہ راز دارانہ انداز دیکھ کے وہیں بیٹھ گیا۔ بہت ساری عورتوں کی طرح کہ اب جب تک وہ پوری بات مجھے بتانہ دیتی اسےآرام آنے والا نہیں تھا۔ لہٰذا مناسب یہی تھا کہ میں اس نیک بخت کے اندر کے اس راز کو سننے کے بعد ہی غسل خانے کا رخ کرتا۔
۔"وہ نئیں ہے خالہ سکینہ  ۔۔۔۔ ارے وہی جو اس دن ہمارے گھر بھی آئیں تھیں اور بریانی بھی لائی تھیں"۔صحیح اچھی طرح یاد دہانی کرانا ضروری تھا کہ کہیں میں کسی کی نیکی کسی اور کے کھاتے میں نا ڈال دوں ۔ " اس کی پڑوسن ہے نا نجمہ پتا ہے اس نے آج کیا کیا"۔ اس نے میرے تجسس کو ہوا دینے کی کوشش کی لیکن اب میں اسے کیا کہتا کہ سارے دن کا تھکا ہارا بندہ سب سے پہلے تازہ دم ہونے کے لئے واش روم کی طرف جانا چاہے گا نہ کہ خالہ سکینہ یا نجمہ کے قصے سننا پسند کرے گا لیکن ایک تابعدار اور پر امن شوہر کی طرح میں نے اپنے چہرے پہ تجسس اور دلچسپی پیدا کرنے کی بھر پور کوشش کی اور شاید میں اس میں کامیاب بھی رہا تھا۔
۔"اس کا کسی سے معاشقہ چل رہا تھا اور اس کے شوہر نے اسے پکڑ لیا بس پھر کیا تھا یہ مار اور وہ مار دونوں میں خوب جھگڑا ہوا اور وہ اپنے میکے چلی گئی ہے۔ توبہ توبہ عورت جب بگڑنے پہ آئے تو اچھے بھلے مرد کی عزت کو مٹی میں رول دیتی ہے"۔  وہ اپنے دونوں کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولی
۔" یہ سب عجیب و غریب اور پھپھہ کٹنیوں والی باتیں تم عورتوں تک کیسے پہنچ جاتی ہیں۔ گھر کس کا ، بات کس کی اور سنا کوئی رہا ہے۔ بڑی بری عادت ہے یہ "۔ حسب دستور میں نے اپنی بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینی ہے ۔ " اور یہ بات تم نے آگے کتنوں کو بتائی ہے" میں نے اچانک یاد آنے پہ اسے کریدنا چاہا۔
۔" میں کوئی چغل خور تھوڑی ہوں جو کسی کی بات کسی کو بتاتی پھروں اور نہ ہی میرے پاس اتنا فالتو وقت ہوتا ہے"۔ اس نے  قدرے برا مناتے ہوئے کہا اگرچہ مجھے اس کی اس بات سے اتفاق نہیں تھا تاہم میں نے بات بڑھانا مناسب نہ سمجھا اور  خاموشی اختیار کر لی۔
خالہ سکینہ ہمارے محلےکی ایک انتہائی فعال اور متحرک شخصیت ہیں۔ ہر کسی کے گھر میں ان کا آنا جانا تھا۔ انتہائی ملنسار، ہمدرد اور خدمت گزار قسم کی عورت ہیں اورادھر کی بات ادھر اور ادھر کی بات ادھر کرنا خالہ کا ایک اضافی وصف تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ عورتیں خالہ کی صحبت پسند بھی بہت کرتی تھیں یہ سوچے بغیر کہ جو خالہ ان کے سامنے سکینہ، علینہ، راحیلہ کی بات کرتی ہے اور ان کی عیب جوئی کرتی ہے وہ سکینہ، علینہ اور راحیلہ کے سامنے ہماری بھی تو اسی طرح عیب جوئی کرتی ہو گی۔ لیکن بس اللہ ہدایت دے اس مخلوق کو کہ وہی انہیں ہدایت دے سکتا ہے۔تو بات ہو رہی تھی خالہ سکینہ کی ۔ خالہ کی ایک ہی بیٹی تھی جس کی کچھ سال پہلے ہی خالہ نے شادی کر دی تھی اور اب اپنےچھوٹے بیٹے کے ساتھ مقیم تھیں۔ سنی سنائی بات ہے کہ خالہ کی ا پنی بڑی بہو سے ان بن لگی رہتی تھی اور روزانہ ہی لڑائی جھگڑا بلکہ گھمسان کا رن پڑتا تھا آخر بڑے بیٹے نے تنگ آ کر اپنا الگ گھر لے لیا اور اب وہ دونوں میاں بیوی خوش و خرم زندگی بسر کر رہے تھے۔ہاں البتہ خالہ ابھی تک اپنی بہو کو معاف کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ میں ایک دفعہ پھر گوش گزار کر دوں یہ سنی سنائی باتیں ہیں اور خالہ کی شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی باتوں کا گمان کرنا کچھ زیادہ مناسب معلوم نہیں پڑتا۔
اس کے بعد بھی بہت دفعہ اپنی زوجہ محترمہ سے خالہ کے مستند حوالے کے ساتھ بہت سارے واقعات سننے کو ملتے رہے۔ کہیں کسی بیوی نے خاوند کی ٹھکائی کی تو کہیں خاوند نے اپنی بیوی پہ ظلم کی انتہا کر دی، کہیں ساس بہو کا مسئلہ تو کہیں  اڑوسی پڑوسی میں ان بن الغرض ہر تیسرے روز خالہ کے توسط سے حالات محلہ سے ہم لوگ آگاہ ہوتے رہے اس امید کے  ساتھ کہ محلے کے کسی بھی گھر میں ہم میاں بیوی موضوع بحث نہیں ہوں گے اگرچہ اس کا امکان آٹے میں نمک کے برابر ہی تھا تاہم اچھا گمان صحت کے لئے ضروری ہے۔
اس روز میری طبیعت کچھ بوجھل سی تھی اور تھوڑی بہت کھانسی بھی تھی۔ میں نے دفتر سے چھٹی کر لی۔ ارادہ یہ تھا کہ دن میں کسی ڈاکٹر سے اپنا چیک اپ کرا لوں گا۔ یہ تقریباَ کوئی دن گیارہ بجے کا وقت ہو گا جب مجھے محلے میں سے کسی کے  رونے اور واویلا کرنے کی آواز سنائی دی۔  ہم دونوں میاں بیوی یہ آوازیں سن کر پریشان ہو گئے اور میں حال احوال دیکھنے باہر نکل گیا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی کے گھر ماتم بچھ گیا ہو۔ دل ہی دل میں جب میں اللہ خیر کرتا وہاں پہنچا جہاں سے آوازیں آ رہی تھیں تو بہت سارے لوگوں کا جمگھٹا دیکھ کر مجھے اپنے اندازہ کی درستگی کا گمان ہوا کہ واقعی شاید کوئی فوتگی ہو گئی ہےلیکن جب قریب گیا تو جو میری آنکھوں نے دیکھا وہ حیران و پریشان کرنے کے لئے کافی تھا۔خالہ سکینہ اس ہجوم کے درمیان میں آلتی  پالتی مارے کسی کو کوسنے میں مصروف تھیں۔کچھ لوگ خالہ کو حوصلہ دلاسہ دینے میں مصروف تھے لیکن خالہ تھی کہ ایک ہی سپیڈ سے کسی مراد نامی بندے کو نامراد کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھی۔میں نے جب یہ حالت دیکھی تو ماجرا جاننا چاہا تب وہ بات پتا چلی جسے کے لئے اوپر کی تمام سطور آپ قارعین کے گوش گزار کی ہیں اور جو اس ساری تحریر کا لب لباب ہے۔میں نے آپکو بتایا تھا کہ خالہ کی ایک بیٹی بھی ہے جو کہ شادی شدہ تھی جس بندے سے اس کی شادی ہوئی تھی وہ خالہ کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھا اور دونوں کی پسند کی شادی تھی جسے خاندان کی سند قبولیت بھی حاصل تھی یوں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ یہ ایک کامیاب شادی تھی اور دونوں میاں بیوی نے پچھلے تین سالوں میں یہ بات ثابت بھی کر دی کہ وہ دونوں ایک کامیاب شادی شدہ جوڑا ہیں۔ دونوں ہی میں بڑا پیار تھا اور پھر خالہ سکینہ کے داماد  مراد نے اپنی بیوی کے لئے گھر بھی علیحدہ لیا تھا تا کہ اگر کبھی اس کی بیوی اور اس کے ماں باپ کے درمیاں کوئی اختلاف پیدا ہو تو اس کی بیوی کے لئے پریشانی کا سبب نہ بنے۔ پچھلے تین سالوں میں ان دونوں کے درمیاں کسی بھی قسم کا کوئی بھی جھگڑا سننے میں نہیں آیا یا کم از کم ایسا کوئی جھگڑا تو ہر گز ہرگز نہیں تھا جس سے نوبت یہاں تک آ پہنچتی۔سبھی حیران تھے کہ آخر مراد کو ایسا کیا ہوا ہے یا خالہ سکینہ کی بیٹی سے ایسی کیا غلطی سرزد ہو گئی کہ بات اتنی بڑھ گئی۔ میں نے ہجوم پہ ایک طائرانہ نظر دوڑائی تو مجھے ان میں خالہ کا بڑا بیٹا بھی نظر آ گیا جو ایک طرف کھڑا خاموشی سے اپنی بہن کے اجڑنے کا تماشا دیکھ رہا تھا۔میں اپنے دکھ کا اظہار کرنے اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔ تب اس نے مجھے وہ بات کہی جو ایسی کہانیوں کا انجام ہوتی ہے۔ اس نے مجھے کہا کہ
۔" مجھے اپنے ماں کے دکھ پہ کوئی دکھ نہیں ہے لیکن اپنی بےقصور بہن کے اجڑنے کا بہت دکھ ہے۔میں مراد کو بھی برا بھلا نہیں کہوں گا کیوں کہ اسے واقعی میری بہن سے محبت تھی اور اس نے اپنے شوہر ہونے کے وہ سارے حقوق ادا کئے جو کوئی بھی اچھا شوہر ادا کرے گا۔  دل بھر گیا ہے میرا ۔۔۔ یہ الفاظ تھے مراد کے جب اس نے میری بہن کو طلاق دی ۔کیا کبھی آپ نے کسی ایسے بندے کے منہ سے اپنی اس بیوی کے لئے ایسے الفاظ سنے ہیں جس سے اس نے پسند کی شادی کی ہو پھر اسے عزت اور محبت سے رکھا ہو ، دیوانوں کی طرح اسے پیار کرتا ہوں اور پھر بس تین ہی سالوں میں اس کا جی بھر جائے ایسا کبھی سنا ہے آپ نے۔یقینا نہیں سنا ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے دل کے اوپر سیاہ دھبے بن گئے تھے جنہوں نے اس کے دل سے میری بہن کی محبت کو نکال باہر کیا اور یہ سیاہ دھبے پتا ہے کیا ہیں۔۔۔ یہ میری ماں کی وہ چغلیاں ہیں جو وہ گھر گھر جا کر لگاتی تھی۔ اس کی نظر میں کسی کی عزت و حمیت کا کوئی خیال نہیں تھا تو پھر قدرت اس کی عزت و حمیت کا خیال کیسےکرے گی"۔
Unknown
۔"اوئے چل جلدی کر ورنہ وہ نکل جائے گی"۔ وہ بہت جلدی میں تھا 
۔"کون نکل جائے گی اور کہاں نکل جائے گی"۔ میںنے ارشد کی طرف دیکھا جو آج ضرورت سے زیادہ ہی بنا سنورا کھڑا تھا
۔"ارے تو پہلے اٹھ ، گاڑی نکال رستے میں تجھے بتاؤں گا۔ جلدی کر یار ورنہ ساری محنت رائیگاں جائے گی"۔ اس نے اپنے بناؤ سنگھار کا ایک دفعہ پھر تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کہا۔ میں اس وقت ایک کتاب کی ورق گردانی میں مصروف تھا دل تو نہیں چاہ رہا تھا لیکن ارشد میرے بچپن کا دوست تھا۔  چارو ناچار اٹھنا ہی پڑا۔ ہماری منزل گھر سے بمشکل دس منٹ کی ڈرائیو پہ ایک بس پوائنٹ تھا جہاں کچھ لوگ اپنی اپنی منزل کی طرف جانے کے لئے بسوں کا انتظار کر رہے تھے۔صبح کا وقت تھا اوروہاں کافی رش تھا۔ ارشد گاڑی رکتے ہی باہر نکل گیا ۔وہ سیاہ نقاب میں ڈھکی چھپی ایک لڑکی تھی جو ایک طرف کھڑی شاید ارشد کا ہی انتظار کر رہی تھی کیوں کہ جونہی اس نے ارشد کو دیکھا اس کی طرف بڑھنے لگی۔وہ اسے لئے ایک قریبی کولڈ ڈرنکس پوائنٹ پہ چلا گیا جبکہ میں وہیں گاڑی میں بیٹھا رہا۔ میں اس کی عادتوں کو اچھی طرح سمجھتا تھا اور  مجھے کبھی بھی کباب میں ہڈی بننا پسند نہیں رہا۔ ان دونوں کی واپسی تقریباَ آدھے گھنٹے میں ہوئی۔ وہ لڑکی دوبارہ وہیں جا کھڑی ہوئی جہاں ہمارے آنے سے پہلے کھڑی تھی اور ہم دونوں واپس گھر کے لئے نکل پڑے۔
۔" پرسوں کی تاریخ ملی ہے یار، سالی کے پیچھے پچھلے تین ماہ سے لگا ہوا تھا لیکن یہ تو اپنے پروں پہ پانی ہی نہیں پڑنے دے رہی تھی   لیکن مییں نے بھی خود سے تہیہ کیا تھا کہ جب تک اس کے ساتھ نہیں سوؤں گا کسی اور لڑکی کا نام تک نہیں لوں گا۔ کیا لڑکی ہے یار تجھ جیسا کھٹور بھی اگر ایک بار اسے دیکھ لے نا تو قسم سے اپنی ساری انا اس کے قدموں میں ڈھیر کر دے"۔ وہ حسب دستور شروع ہو گیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ مجھے ایسے معاملات میں کبھی بھی کچھ زیادہ دلچسپی نہیں رہی۔ تاہم میں نے کبھی بھی اس کے معاملات پہ نکتہ چینی کرنے یا ناصح بننے کی کوشش نہیں کی۔ 
اگلا سارا دن ارشد کے ساتھ اسی سیاہ پوش کے لئے تحفہ خریدنے کی نظر ہو گیا۔ اس نے پورا طارق روڈ کھنگال مارااور پھر خدا خدا کر کےر ات آٹھ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب اسے ایک خوبصورت ساڑھی پسند آئی اور یوں میری جان اس عذاب سے چھوٹی۔
۔" تم ابھی تک تیار نہیں ہوئے"۔ میں جو ابھی ابھی باہر سے آیا تھااس کی آواز سن کر چونک گیا۔ بلیک سوٹ میں ملبوس وہ بہٹ خوبصورت لگ رہا تھا ۔
۔" میں نے تیار ہو کے کہاں جانا ہے"۔ میں نے ہنوز صوفے پہ اپنی ٹانگیں پسارتے ہوئے پوچھا
۔" ابے سالے بھول گیا آج ہی تو وہ خوبصورت شام اور یادگار رات ہے جب پچھلے تین ماہ سے دل میں دبی سلگتی خواہشات کی تکمیل ہونے والی ہے"۔  وق میرے سامنے صوفے پہ بیٹھ چکا تھا
۔" تو میں نے وہاں کیا کرنا ہے ۔ چابی لو گاڑی باہر کھڑی ہے اور اللہ بیلی"۔
۔" او نئیں یار آج تو تجھے میرے ساتھ آنا ہی ہو گا۔ چاہے بے شک وہاں چائے سموسے کھا کے واپس آ جانا اور گاڑی بھی لے آنا میں صبح تیکسی پہ آ جاؤں گا"۔ 
میرے کافی انکار کے باوجود وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانے پہ بضد تھا۔ آخر مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق میں اس کے ہمراہ ہو لیا۔ مطلوبہ فلیٹ تک پہنچتے پہنچتے ہمیں شام کے چھ بج گئے۔ ہمارا استقبال سفید سوٹ میں ملبوس ایک خوش پوش نوجوان نے کیا ۔ وہ فلیٹ اس کے ماموں کا تھا جہاں کبھی کبھی وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ زندگی کے مزے لوٹنے آتا تھا۔ ابتدائی مہمان نوازی اور سلام دعا کے بعد میں نے اجازت مانگنی چاہی تو ہمارا میزبان بضد ہوا کہ کھانا کھا کے جائوں اور صنف نازک کے پہنچتے ہی کھانا لگا دیا جائے گا پھر بے شک اگر میں جانا چاہوں تو جا سکتا ہوں۔ارشد کی بھی یہی ضد تھی ۔مجبورا مجھے کچھ دیر اور وہاں رکنا تھا۔ تقریباَ بیس یا پچیس منٹ کے بعد ارشد کی گل لیلیٰ آ پہنچی اور یوں آدھا انتظار ختم ہوا تاہم ابھی آدھا انتظار باقی تھا کیوں کہ ہمارے میزبان کی گل لیلیٰ کی آمد ابھی باقی تھی۔ 
۔" دراصل میری دوست ایک قدامت پسند گھرانے سے تعلق رکھتی ہے اور گھر میں بھائی کی موجودگی میں اس کا نکلنا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم لوگ مہینے میں بمشکل دو چار بار ہی مل پاتے ہیں جب کبھی اس کے بھائی کو کسی کام کے سلسلے میں باہر جانا پڑے"۔ جب انتظار کی گھڑیاں کچھ لمبی ہوئیں تو ہمارے میزبان نے اپنی دوست کی دیری کی معذرت خواہانہ انداز میں   وضاحت کی۔اور ساتھ ہی موبائل پہ رابطے کی کوشش بھی جو پہلی ہی بار میں بارآور ثابت ہوئی اور ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارا آخری مہمان بس چند منٹوں میں پہنچنے ہی والا ہے۔ 
ارشد کی ابھی سے چھیڑ چھاڑ شروع تھی اور جس محفل کا ہم حصہ تھے اس کا مقصد ہی ایسی چھیڑ چھاڑ کی انتہا تھی۔ پھر  کچھ دیر یونہی ہنسی مزاق اور چھیڑ چھاڑ کی نظر ہو گئےجب اطلاعی گھنٹی کی خوبصورت آواز سنائی دی۔ہمارا آخری مہمان بھی پہنچ چکا تھا۔ گھنٹی کی آواز سنتے ہی ہمارا میزبان کمرے سے باہر نکل گیا۔ ارشد ابھی بھی اسی مہ جبیں کے ساتھ سر  مستیوں میں مصروف تھا اس کا غالباَ داؤ نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ وہیں اس کے ساتھ محبت کی انتہاؤں کو چھو لیتا۔اسی دوران مجھے باہر سے ہلکی سی ہنسی اور "چھوڑو اتنی بھی کیا جلدی ہے ابھی تو ساری رات باقی ہے " کی دھیمی سی آواز سنائی دی ۔ ہمارا میزبان غالباَ اپنی دوست سے انتظار کا جرمانہ وصول کر رہا تھا۔
۔" دیکھا کتنی بے صبری ہے محبت میں پتا مہیں تو کس مٹی کا بنا ہوا ہے۔ میں تو کہتا ہوں آج یہیں رک جا ہمارے ساتھ۔ دونوں میں جو پسند آئے وہ تمہاری اور چاہوں تو دونوں ہی تمہاری ۔ہم محبت میں مل بانٹ کر کھانے کے قائل ہیں۔ کیوں جان"۔آخر میں اس نے اپنے پہلو میں بیٹھی آتش دو ناد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جس نے ایک دلربانہ انداز میں سر سے پاؤں تک مجھے غور سے دیکھا جیسے قصائی قربانی سے پہلے بکرے کو پرکھتے ہوئے دیکھتا ہے ۔اس سے پہلے کہ میں اس کی اس بات کو  کوئی جواب دیتا ہمارا میزبان اپنے آخری مہمان کےہمراہ کمرے میں داخل ہوا ۔ اسی پل میں نے ارشد کو انتہائی تیزی سے صوفے سے اٹھتے ہوئے دیکھا اور میں بے اختیار پیچھے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا۔ ہمارا آخری مہمان کوئی اور نہیں ارشد کی بہن ردا ناز تھی۔

Unknown
بیاض مجنوں 2012. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.